33

سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی فیکٹری پر چھاپہ

انتظامیہ سے پوچھ گچھ، کوالٹی چیک کرنے کے ساتھ لائسنس سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا

ہالا (تازہ ترین ۔ 30 اپریل 2021ء) : سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا جہاں انتظامیہ سے پوچھ گچھ کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی سانگھڑ و شہدادپور روڈ پر واقع گھی فیکٹری پرچھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران کوالٹی چیک کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ ریکارڈ اور لائسنس بھی چیک کیا۔لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر فیکٹری انتظامیہ سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔ فیکٹری پر چھاپے سے متعلق سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا کہنا تھا کہ گھی فیکٹری کے لائسنس کی تجدید کے لیے پہلے ہی درخواست جمع کرواچکا ہوں۔ رزق دینے والا اللہ ہے۔ مجھے کسی کا ڈر اور خوف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نےتحریک انصاف کے حکمرانوں پر الزامات عائد نہیں کیے بلکہ حقیقت بیان کی ہے۔اگر میں نے اتنے ہی غلط اور جھوٹے الزام عائد کیے ہیں تو انہیں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ ہالا میں اپنی رہائش گاہ پر نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ الزامات تو وہ ہوتے جو تحریری دیتا ، میں نے تو باتیں کی۔ اب یہ لوگ لیگل پراسیس میں آ گئے ہیں اور مجھے ایک قانونی نوٹس بھیجا گیا ہے۔ ان کی مہربانی ہے میں اس کا جواب دوں گا۔بشیر میمن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، میں اب ریٹائرڈ ہو کر گھر میں بیٹھا ہوں۔ کیامسلم لیگ ن دوبارہ پاور میں آنے کے بعد مجھے پھر نوکری دے گی؟ مجھے سمجھ نہیں آرہی کس طرح کی باتیں کی جارہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئیے کہ حکمرانوں کو چاہئیے تھا کہ میں نے جو کہا اس کے بارے میں میڈیا میں آ کر بتاتے کہ میں نے کیا جھوٹ بولا۔ لیکن انہوں نے اُلٹاسوشل میڈیا پپر طوفان بدتمیزی برپا کردیا ہے اور انہیں مغلظات تک دی جارہی ہیں۔ بشیر میمن نے مزید کہا کہ مغلظات دینے والے بچوں سے کہتا ہو کہ وہ غلیظ باتوں سے اجتناب برتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں