17

مسلم لیگ (ن )اور پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا .جہانگیرترین

مقدمات سے نہیں بھاگ رہے ہیں بلکہ عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں.تحریک انصاف کے راہنما کی عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو

لاہور(تازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 03 مئی ۔2021ء) تحریک انصاف کے راہنماجہانگیر ترین نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن )اورپیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔پاکستان تحریک انصاف کے راہنما جہانگیر ترین نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم مقدمات سے نہیں بھاگ رہے ہیں بلکہ عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ میرا کیس کریمنل نہیں ہے اور ایف آئی اے کا کوئی کردار نہیں ہے یہ کاروباری معاملہ ہے اورایس ای سی پی سی سے متعلق ہے.جہانگیر ترین نے کہا کہ مسلم لیگ( ن) اور پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا جبکہ مجھے اپنی پارٹی میں بہت سے لوگوں کی حمایت حاصل ہے انہوں نے کہا کہ ہم تفیش سے نہیں ڈرتے لیکن انصاف چاہتے ہیں اور سب کو معلوم ہے جو کیسز ہو رہے ہیں اس کی بنیاد کچھ اور ہے. انہوں نے کہا کہ شہ محمود قریشی کے بیان پر کچھ نہیں کہنا چاہتا مجھے دوستوں کی حمایت حاصل ہے اور وزیر اعظم سے میرے دوستوں کی ملاقات ہوئی تھی قبل ازیںلاہور کی سیشن اور بینکاری عدالتوں نےاورجہانگیر ترین اورعلی ترین کی عبوری ضمانت میں 19 مئی تک توسیع کر دی ہےجہانگیر ترین اور ان کے صاحب زادےعلی ترین کے خلاف کارپوریٹ فراڈ، منی لانڈرنگ اور جعلی اکاﺅنٹس کیس میں عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست پر آج لاہور کے سیشن عدالت اور بینکنگ کورٹ میں سماعت ہوئی.سیشن عدالت میںجہانگیر ترین کے وکیل نے کہا اس کیس میں شفاف تفتیش نہیں ہو رہی ہے اب اس کی تفتیش ابو بکر خدا بخش کے پاس تبدیل ہوگئی ہے جب بلایا جائے گا تو ہم ایف آئی اے میں پیش ہو جائیں گے بینکنگ کورٹ میں جہانگیر ترین کے خلاف جعلی اکاﺅنٹس کیس کیس سماعت میں جہانگیر ترین سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 19 مئی تک توسیع کی گئی،سماعت بینکنگ کورٹ کے جج امیر محمد خان نے کی، جب کہ جہانگیر ترین اور علی ترین ،  رانا نسیم اور عامر وارث عدالت میں پیش ہوئے.جج نے کہاوکلا تیاری کر کے آئیں، آئندہ شاید تاریخ نہ ملے،جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا تفتیش میں بہت سے نقائص ہیں، ابوبکر خدا بخش تفتیشی ٹیم میں شامل ہوگئے ہیں، ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا کہ ہم اگلے کچھ دن میں پیش ہوں گے، تفتیشی افسر نے کہا کہ اس کیس میں ابھی تفتیش جاری ہے. وکیل جہانگیر ترین نے کہا آپ کی عدالت میں جو کیس ہے وہ سب سے زیادہ پریشان کن ہے، جو الزامات ہیں ان کا حقیقت سے دور دور کا تعلق نہیں، یہ دستاویزی ثبوت کا کیس ہے زبانی بیان کا نہیں، ایف آئی اے نے کہا کہ اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں، یہ کیس کسی بھی عدالت کا نہیں بلکہ اخراج کا کیس ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں