17

نہ زمین پھٹی اور نہ ہی آسماں لرزا،ننھے پھول مبین ریاض کی لاش دیکھتے ہی والدین کی چیخ و پکار،ہر آنکھ اشک بار،گھر میں قیامت صغری کا منظر

مورخہ 16 اپریل 2021ء بمطابق 3 رمضان المبارک بروز جمعہ یہ ننھا پھول جس کے عمر تقریبا 8 سال تھی ، حسب معمول اپنی مصروفیات میں تھا اور گھر سے سودا سلف لانے دکان پر گیا ۔ کیا پتہ تھا کہ یہ اب اپنے والدین سے دور جانے والا ہے ۔ جمعہ کی نماز ک؎ فوراً بعد گھر سے نکلا اور پھر واپس نہ آیا ۔ شام تک گھر نہ آنے پر والدین نے تلاش شروع کر دی،اہل علاقہ سے پوچھ گچھ پر پتہ چلا کہ تقریبا ً06:30بجے شام وہ گھر کے پاس کھڑا تھا ۔اس کے بعد پھر اس کا کوئی پتہ نہ چلا۔ محمد ریاض (جو کہ بچے کا والد ہے) نے متعلقہ تھانہ کاہنہ نو میں تلاش گمشدگی کی ایف آئی آر کٹوائی ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ بچے کی تلاش شروع کر دی ۔ ایک ہفتہ بعد جمعہ کے دن مورخہ 23 اپریل کو اس بچے کی لاش بدوکی گاؤں کے ساتھ ایک کھائی سے ملی جس کو مٹی کے نیچے دبایا گیا تھا ،لیکن جمعرات کو ہونے والی بارش نے اس بچے کو ماں باپ کے سامنے لانا تھا۔ لاش کے ملتے ہی والدین نے چیخ و پکار شروع کر دی اور اسی دوران اہل علاقہ بھی موقع پر پہنچ گئے ۔اس بچےکو بری طرح زخمی کر کے قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی پوسٹ ماٹم روپورٹ کے مطابق بچےکو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ظالم درندوں نے اس ننھے پھول کو نوچ کر والدین کو تا حیات صدمہ میں مبتلا کر دیا ۔جبکہ ان حیوانی صفت ظالم درندوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہ مل سکا۔ بچے کے والدین نے کہا ہے کہ ہماری وزیر اعلی پنجاب جناب عثمان بزدار سے گزارش ہے کہ اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا حکم دیں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مزید اس طرح کے صدمات سے بچا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں