30

پاکستانی حکومت کو ایک بار پھر کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت سے رابطہ کا حکم دے دیا گیا

پاکستانی حکومت کو بھارت سے رابطہ کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کی جانب سے دیا گیا

اسلام آباد 05 اپریل 2021ء) : پاکستانی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سےکے کلبھوشن یادیو معاملے پربھارتی حکومت سے رابطہ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میںبھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے لیے وکیل مقرر کرنے سے متعلق کیس پرسماعت ہوئی ، ہائیکورٹ کے لارجر بینچ پر مشتمل چیف جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی۔بھارتی جاسوس کلبھوشن کے لیے وکیل مقرر کرنے کے حکم نامے پربھارتی سفارت خانے نے کوئی وکالت نامہ جمع نہیں کروایا تاہم وفاق کی جانب سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر، ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ثقلین اخترمیں عدالت پیش ہوئے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بھارت نے پاکستانی عدالتوں کا حکم ماننے سے انکار کر دیا، 23 ستمبر کوپاکستان نے بھارت کو جواب دیا،کلبھوشن والے معاملے میںبھارت درخواست گزار ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کلبھوشن کے معاملے پربھارت کا مؤقف کیا ہے،عدالتی حکم پربھارتی خود مختاری کا ذکر نہیں ہے، جس پر ، اٹارنی جنرل نے استدعا کی عدالت ایک بار پھربھارتی ہائی کمیشن کونوٹس کر دے۔چیف جسٹس نےعدالتی معاون حامد خان کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ ایک بھارتی شہری کے حقوق کا معاملہ ہے، عالمی عدالت انصاف کے احکامات کی روشنی میںبھارت سے رابطہ کریں اورسماعت 15 جون تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی حکومت کو یہی حکم دیا گیا تھا ۔ جنوری 2021ء میں اسلام آباد ہائیکورٹ نےبھارتی جاسوس کلبھوشن کے لیے وکیل تقریری کیس میں ایک بار پھر پاکستانی حکومت کوبھارتی حکومت سے رابطہ کرنے کا حکم دے دیا تھا جس کے بعد آج ہونے والی سماعت میں بھی یہی حکم دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں