69

کرونا کی تیسری خطرناک لہر کی شدت سے کے اثرات اور مستقبل میں حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا اظہار خیال

کرونا وائرس کی تیسری لہر شدت اختیار کر چکی ہے ۔ اسی لہر سے جہاں اقوام عالم لپیٹ میں آچکا ہے وہاں پاکستان بھی اسی نازک صورت حا ل سے دو چار ہے ۔ پاکستانی حکام اس نازک صورتحال پر بروقت قابو پانے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے کے لئے وسائل کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش میں ہیں ۔ حالیہ ایام میں بھارت میں کرونا کے بڑھتے کیسزکے بعث ہسپتالوں میں وسائل کے بحران نے ہلا کر رکھ دیا ہے ۔اسی تناظر میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری صاحب اسلام آباد میں میڈیا سے اپنے خیالا ت کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا کے بڑھتے کیسسز کی بدولت ہسپتالوں میں آکسیجن کی فراہیمی کی ہر ممکن کوشش میں ہیں اس کے لئے اگر صنعتی سیکٹر کو آکسییجن کے تعطل کی ضرورت پڑھی تو انسانی جانوں کی حفاظت کو ترجیح دیں گے ۔ آکسیجن کی دستیابی کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ چین اور ایران سے آکسیجن درآمد کرنے کی تجویز زیر بحث ہے ۔ہمارا مقصد ہے کہ اگر ہم مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو اس عمل سے ملک میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہونے پائے ۔ اگر ہم مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جاتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں تمام مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل تیاری کرنا ہو گی ۔اپنے خطاب کے دوران ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال عید الفطر کی سرکاری سطح پر 5 چھٹیا ں دی جا رہی ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں